ad 1
Wednesday, February 26, 2014
کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو
ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، "اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئ احساس ذمہ داری نہیں ہے ؟"۔..."مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں " ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ "اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں""میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟" باپ غصے سے بولا ۔ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا ، " ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے "۔"بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہے تمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو ۔ بچے کا باپ بڑبڑایا "۔آپریشن میں کئ گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، " تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئ سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا" ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔"کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا" ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، " اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہے دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے"۔
کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہےتم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔اس میں ایک بہت بڑا سبق ہے، سچی بات ہے ہم بعض اوقات حقیقت سے بہت دور ہوتے ہیں۔ جب ہمیں حقیقت کا علم ہوتا ہے پھر سوائے ندامت اورشرمندگی کے ہمارے پاس کوئی الفاظ نہیں ہوتے۔
ایک بوڑھی عورت جس کی ہر دعا قبول ہوگئی تھی!
ایک بوڑھی عورت جس کی ہر دعا قبول ہوگئی تھی!
اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔
وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چلے گئے۔ ڈاکٹر احمد بھی دیگر مسافروں کے ساتھ طیارے کی فنی خرابی کے درست ہونے کا انتظار کرنے لگے۔تھوڑی دیر کے بعد ائیر پورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا:خواتین وحضرات! انجینئر نے بتایا ہے کہ فنی خرابی کے درست ہونے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا مسافروں کے لیے متبادل طیارہ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ کب آئے گا ؟کسی کو علم نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد نیا اعلان ہوا کہ متبادل طیارہ کل ہی آسکتا ہے۔ ہم اس زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ اب آپ کو ہوٹل پہنچا دیا جائے گا۔
ڈاکٹر احمدکے لیے یہ اعلان نہایت تکلیف دہ اور پریشان کر دینے والا تھا۔ آج رات تو اس کی زندگی کی نہایت اہم رات تھی۔ وہ کتنے ہفتوں سے اس رات کا منتظر تھا کہ جب اس کی تکریم ہونی تھی۔ وہ کرسی سے اٹھا اور ائیر پورٹ کے اعلی افسر کے پاس جا پہنچا، اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں انٹر نیشنل لیول کا ڈاکٹر ہوں۔ میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔ مجھے آج رات دارالحکومت میں مقالہ پڑھنا ہے۔ پوری دنیا سے مندوبین اس سیمینار میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگ ہمیں یہ خبر سنا رہے ہیں کہ متبادل طیارہ ۱۶ گھنٹے بعد آئے گا۔متعلقہ افسر نے اسے جواب دیا: محترم ڈاکٹر صاحب ہم آپ کی عزت اور قدر کرتے ہیں ۔
ہمیں آپ کی اور دیگر مسافروں کی مشکلات کا اندازہ ہے۔ لیکن یہ ہمارے بس کی بات نہیں اور نیا طیارہ فوری طور پر فراہم کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔البتہ وہ شہر جہاں آپ کو کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا ہے، یہاں سے بذریعہ کار سے صرف تین چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اگر آپ کو بہت جلدی ہے تو ائیر پورٹ سے کرایہ پر گاڑی حاصل کریں اور خود ڈرائیو کرتے ہوئے متعلقہ شہر پہنچ جائیں۔ ‘‘
ڈاکٹر احمدلمبی ڈرائیونگ کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ مگر اب یہ مجبوری تھی اس کے پاس کوئی متبادل راستہ تھا ہی نہیں۔اس نے متعلقہ آفیسرکے مشورے کوپسند کیا اور ایئر پورٹ سے کار کرایہ پر لے کر متعلقہ شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیاتھا کہ اچانک موسم خراب ہو نا شروع ہو گیا۔آسمان پر گہرے بادل نمو دار ہوئے۔تیز آندھی اس پر مستزادتھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زور دار بارش شروع ہوگئی اور ہر طرف اندھیر ا چھا گیا۔ موسم کی خرابی کی و جہ سے اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔ دو گھنٹے تک وہ مسلسل چلتا گیا،بالآخر اسے یقین ہو گیاکہ وہ راستے سے بھٹک چکا ہے۔
اب اسے بھوک اور تھکاوٹ کااحساس بھی بڑی شدت سے ہونے لگا۔اس نے سوچا تھا : تین چار گھنٹے ہی کا سفر تو ہے ، ا س لیے اس نے اپنے ساتھ کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہ لی تھی۔اب اسے کسی ایسے ٹھکانے کی تلاش تھی جہاں سے اسے کھانے پینے کی کوئی چیز مل سکے۔وقت تیزی سے گزرتا رہا تھا۔ چاروں طرف رات کا اندھیرا بھی چھا چکا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے غیر شعوری طور پراپنی گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے روک دی۔
اس کا ہاتھ گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا جب اندر سے ایک بوڑھی عورت کی نحیف و ناتواں آوازاس کے کانوں میں پڑی جو کہہ رہی تھی:جو بھی ہو اندر آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ ڈاکٹراحمدگھر میں داخل ہو اتو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت متحرک کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے خاتون سے کہا: اماں! میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو چکی ہے، کیا میں اپنا موبائل چارج کر سکتا ہوں؟
بوڑھی عورت مسکرا کر کہنے لگی: میرے بیٹے کون سے فون کی بات کررہے ہو؟ تمھیں معلوم نہیں اس وقت تم کہاں ہو؟ ہما رے ہاں نہ تو بجلی ہے نہ ٹیلی فون،یہ تو ایک چھوٹا سا گائوں ہے، جہاں شہری سہولتوں کاکوئی تصور نہیں ہے پھر اس نے مزید کہا! میرے بیٹے وہ سامنے میز پر چائے اور کھانا رکھاہے۔لگتا ہے کہ تم بھوکے اور پیاسے ہو۔راستہ بھٹک گئے ہو۔تم پہلے کھانا لو پھر بات کریںگے۔ لگتا ہے تم خاصا طویل فاصلہ طے کر کے آئے ہو۔ ڈاکٹر احمدنے اس بوڑھی خاتون کا شکریہ ادا کیا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا ۔سفر کی تھکاوٹ سے اسے شدید بھوک لگ رہی تھی ۔اچانک خاتون کی کرسی کے ساتھ والی چارپائی پر حرکت ہوئی اور ایک معصوم نے رونا شروع کر دیا۔خا تون نے اس بچے کوتھپک کر سلایا اور اسے دعائیں دینا شروع کیں۔وہ اس بچے کی صحت اور سلامتی کے لیے لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔
ڈاکٹراحمدنے کھانا کھایا اور بوڑھی اماں سے کہنے لگا: اماں جان! آپ نے اپنے اخلاق ‘کرم اور میز بانی سے میرا دل جیت لیا ہے۔آ پ لمبی لمبی دعائیں مانگ رہی ہیں ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی دعائیں ضرور قبول کرے گا۔ ’’میرے بیٹے! وہ بوڑھی گویا ہوئی۔‘‘ میرے اللہ نے میری تمام دعائیں سنی اور قبول کی ہیں۔ہا ں بس ایک دعا باقی ہے جو میرے ضعفِ ایمان کی وجہ سے پور ی نہیں ہوئی ۔تم تو مسافرہو، دعا کرو کہ وہ بھی قبول ہو جائے۔
ڈاکٹر احمدکہنے لگا: اماں جان وہ کونسی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی۔آپ مجھے اپنا کام بتائیں میں آ پ کے بیٹے کی طرح ہوں ۔اللہ نے چاہا تو میں اسے ضرورکروں گا۔آپ کی جو مدد میرے بس میں ہو گی ضرور کروں گا۔ خاتون کہنے لگی: میرے عزیز بیٹے !وہ دعا اور خواہش میرے اپنے لیے نہیںبلکہ اس یتیم بچے کے لیے ہے جو میرا پوتا ہے۔اس کے ما ں باپ کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اسے ہڈیوں کی ایک بیما ری ہے جس کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذو ر ہے۔میں نے قریبی حکیموں، مہمانوں سے اس کے بڑے علاج کرائے ہیں مگر تمام اطباء اس کے علاج سے عاجز آ گئے ہیں ۔
لوگو ں نے مشورہ دیا ہے کہ اس ملک میں ایک ہی ڈا کٹر ہے جو اس ہڈیوں کے علاج کا ما ہر ہے، اس کی شہرت دور دور تک ہے ۔ وہ بڑا مانا ہوا سرجن ہے۔ وہی اس کا علاج کر سکتاہے، مگر وہ تو یہاں سے بہت دو ر رہتا ہے پھر سنا ہے بہت مہنگا بھی ہے۔ اس تک پہنچنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ تم میری حالت تو دیکھ ہی رہے ہو،میں بوڑھی جان ہوں۔کسی وقت بھی بلاوا آ سکتا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد اس بچے کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ کوئی سبب پیدا کر دے کہ اس بچے کا اس ڈاکٹر سے علاج ہو سکے۔ عین ممکن ہے کہ اس یتیم بچے کو شفاء اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں مل جائے۔
ڈاکٹر احمداپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: اماں جان! میرا طیارہ خراب ہوا، راستے میں اُترنا پڑا کار کرائے پر لی، خوب طوفان آیا‘ آندھی او ر بارش آئی، راستہ بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے گھر زبر دستی بھجوا دیا۔اما ں آپ کی آخری دعا بھی قبول ہو چکی ہے۔اللہ رب العزت نے ایسے اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ وہ ہڈیوں کا بڑا ڈاکٹر خود چل کر آپ کے گھر آگیا ہے۔ اب میں آپ کے پوتے کا علاج کروں گا۔‘‘
جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کی سنتا ہے تو پھر اس کوپورا کرنے کے لیے اسباب بھی خود ہی مہیا فرما دیتا ہے۔کائنات کی ساری مخلوق چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، اللہ کے حکم اور اس کی مشیّت کی پابند ہے۔ اس واقعے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالی نے زمین وآسمان کی مختلف قوتوں کو کام میں لا کر بوڑھی اماں کی دعا کو پورا کرنے میں لگا دیا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو.
سورة النمل - الآية 62
اگر آپ گوگل ارتھ استعمال کرتے ہیں تو گوگل ارتھ کے سرچ بار میں جا کر مندرجہ ذیل ھندسے لکھیئے۔
32° 3'58.06"N 37° 8'51.87"E
آپ کے سامنے ایک ایسا چٹیل میدان آ جائے گا جس میں ایک چاردیواری کے اندر ایک درخت ہو گا۔اسی جگہ پر فوٹوز کھولیئے تو اس درخت کی تصاویر آپ کے سامنے نظر آ جایئں گی۔ یہ تصویر بھی میں نے ابھی ابھی گوگل ارتھ کی اس درخت کی تصاویر میں سے لی ہے۔اس درخت کے ارد گرد سو کلو میٹر تک کوئی درخت نہیں۔اس درخت نے آج سے 1400 سال پہلے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو سایہ فراہم کیا تھا۔آپ ص کا وہ بچپن کا دور تھا جب آپ ص اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کی غرض سے پہلی بار شام گئے تھے۔دوپہر کے وقت صحرا کی سخت گرمی میں قافلے نے اس درخت کے نیچے قیام کیا۔
اس درخت کے قریب ہی ایک عسائی راہب بحیرہ کی کٹیا تھی جس نے کتابوں میں پڑھ رکھا تھا اللہ کے آخری نبی ص اپنے بچپن میں اس درخت کے نیچے قیام فرمائیں گے۔ اس نے جب قافلے والوں کا درخت کے نیچے پڑاؤ دیکھا تو اسے لگا وہ وقت آ گیا جب آخری نبی مکہ میں پیدا ہو چکے ہیں اور اس وقت وہ درخت کے نیچے قیام پذیر ہیں۔
وہ الله کے اس عظیم نبی سے ملنے کا خواھشمند تھا - اسکی متجسس نگاہیں اس قافلے پر مرکوز تھیں - اسکے علم میں جب یہ بات ائی کہ اس قافلے میں ایک بچہ ایسا ہے کہ وہ دھوپ میں جس طرف بھی جاتا ہے بادل کا ایک ٹکڑا اسپر سایہ فگن رہتا ہےتو خبر راہب کو یقین کی حد تک لے گئی کہ یہی الله کے آخری نبی ہیں - لیکن سو فیصد تصدیق کے لیے اسے ابھی کچھہ اور بھی تجربہ کرنا تھا - اسکا اضطراب دیدنی تھا
اسنے قافلے کے تمام لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا - سب لوگ دعوت پر آیے لیکن وہ بارہ سال کا بچہ دعوت میں موجود نہیں تھا جس سے وہ راہب ملنے کے لیے بے چین تھا - اس بچے کا نہ انے سے وہ بے قرار باہر کی جانب آیا اور اس قافلے کے پڑاؤ کی جانب دیکھنے لگا- اسنے دیکھا کہ وہ بارہ سال کا بچہ تنہا اس درخت کے نیچے جو آپ کو اس تصویر میں نظر آرہا ہے آرام فرما رہا ہے - اس راہب کو بے قراری اور بڑھ گئی اور اسکو اب یقین کامل ہوگیا کہ یہی وہ ہستی ہے ، یہی وہ آخری نبی ہیں جسکے لیے الله سبحان و تعالی نے اس پوری کائنات کو پیدافرمایا ہے - اس راہب اس درخت کے بارے میں پڑھ رکھا تھا کہ اس مقدس درخت کے نیچے آخری نبی ہی ہونگے جو آرام فرمائیں گے
اس راہب نے عزت سے کم سن رسول سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم کو ضیافت میں آنے کی درخواست کی اور پھر لوگوں کو اگاہ کیا کہ یہی وہ آخری نبی ہیں جن کا ذکر پاک مقدس انجیل میں موجود ہے - اس راہب نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کو نہ صرف مشورہ دیا بلکہ اس بات پر راضی بھی کیا کہ کہ وہ اس عظیم بچے کو واپس مکّہ لے جائیں کیوں کہ بہت سے یہودی اس متبرک بچے کی جان مبارک کے دشمن ہیں اور وہ انکی تلاش میں ہیں -
میں یہاں گستاخانہ خاکے بنانے والوں سے گذارش کروں گا کہ وہ ایک بار جا کر اس درخت کو ضرور دیکھیں جو آپ کی طرح زندہ اور سمجھدار انسان تو نہیں تھا لیکن اسے پتہ تھا کہ ایک نبی ص کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔
This incident was when ourBeloved Prophet of Allahصلى الله عليه وسلمwas 12 years old (1459 hijri years ago).The tree which shaded Rasoolullahi (صلى الله عليه و سلم) is miraculously preserved by Allah for all this long period. It is the lonely tree available for around hundred square kilometers in that inhospitable desert north of Jordan.
Subscribe to:
Posts (Atom)




