ad 1
Wednesday, February 26, 2014
ماں
بہت عرصہ مجھے اس راز کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ماں کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے۔
میں سکول سے آتا تو دستک دینے سے ہہلے دروازہ کھل جاتا۔
کالج سے آتا تو دروازے کے قریب پہنچتے ہی ماں کا خوشی سے دمکتا چہرہ نظر آ جاتا۔
وہ پیار بھری مسکراہٹ سے میرا استقبال کرتی، دعائیں دیتی اور پھر میں صحن میں اینٹوں سے بنے چولہے کے قریب بیٹھ جاتا۔
ماں گرما گرم روٹی بناتی اور میں مزے سے کھاتا ۔
جب میرا پسندیدہ کھانا پکا ہوتا تو ماں کہتی چلو مقابلہ کریں۔
یہ مقابلہ بہت دلچپ ہوتا تھا۔
ماں روٹی چنگیر میں رکھتی اور کہتی اب دیکھتے ہیں کہ پہلے میں دوسری روٹی پکاتی ہوں یا تم اسے ختم کرتے ہو۔ ماں کچھ اس طرح روٹی پکاتی ... ادھر آخری نوالہ میرے منہ میں جاتا اور ادھر تازہ تازہ اور گرما گرم روٹی توے سے اتر کر میری پلیٹ میں آجاتی۔
یوں میں تین چار روٹیاں کھا جاتا۔
لیکن مجھے کبھی سمجھ نہ آئی کہ فتح کس کی ہوئی!
ہمارے گھر کے کچھ اصول تھے۔ سب ان پر عمل کرتے تھے۔
ہمیں سورج غروب ہونے کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔
لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے لاھور میں ایک اخبار میں ملازمت ایسی ملی کہ میں رات گئے گھر آتا تھا۔
ماں کا مگر وہ ہی معمول رہا۔
میں فجر کے وقت بھی اگر گھر آیا تو دروازہ خود کھولنے کی ضرورت کبھی نہ پڑی۔
لیٹ ہو جانے پر کوشش ہوتی تھی کہ میں خاموشی سے دروازہ کھول لوں تاکہ ماں کی نیند خراب نہ ہو لیکن میں ادھر چابی جیب سے نکالتا، ادھر دروازہ کھل جاتا۔
میں ماں سے پوچھتا تھا.... آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آ گیا ہوں؟
وہ ہنس کے کہتی مجھے تیری خوشبو آ جاتی ہے۔
پھر ایک دن ماں دنیا سے چلی گئی !
ماں کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں گھر لیٹ پہنچا، بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑا رہا، پھر ہمت کر کے آہستہ سے دروازہ کھٹکٹایا۔ کچھر دیر انتظار کیا اور جواب نہ ملنے پر دوبارہ دستک دی۔ پھر گلی میں دروازے کے قریب اینٹوں سے بنی دہلیز پر بیٹھ گیا۔
سوچوں میں گم نجانے میں کب تک دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہا اور پتہ نہیں میری آنکھ کب لگی۔ بس اتنا یاد ہے کہ مسجد سے آذان سنائی دی، کچھ دیر بعد سامنے والے گھر سے امّی کی سہیلی نے دروازہ کھولا۔ وہ تڑپ کر باہر آئیں۔
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی پتر! تیری ماں گلی کی جانب کھلنے والی تمہارے کمرے کی کھڑکی سے گھنٹوں جھانکتی رہتی تھی۔ ادھر تو گلی میں قدم رکھتا تھا اور ادھر وہ بھاگم بھاگ نیچے آ جاتی تھیں۔
وہ بولی پتر تیرے لیٹ آنے، رات گئے کچن میں برتنوں کی آوازوں اور شور کی وجہ سے تیری بھابی بڑی بڑ بڑ کیا کرتی تھی کیونکہ ان کی نیند خراب ہوتی تھی۔
پھر انہوں نے آبدیدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا اور بولیں "پتر ھن اے کھڑکی کدے نیئں کھلنی"۔
کچھ عرصہ بعد میں لاھور سے اسلام آباد آ گیا جہاں میں گیارہ سال سے مقیم ہوں۔
سال میں ایک دو دفعہ میں لاھور جاتا ہوں۔
میرے کمرے کی وہ کھڑکی اب بھی وہاں موجود ہے۔
لیکن ماں کا وہ مسکراہٹ بھرا چہرہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا۔
Top of Form
جنید پہلوان
کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔ پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی نہ تھا۔ بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا۔ کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا۔
ایک دن
جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں اراکین سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ شاہی محل
کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی۔ خادم نے آکر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور و
ناتواں شخص دروازے پر کھڑا ہے جس کا بوسیدہ لباس ہے۔ کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین
پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام
پہنچا دو کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے۔ بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے
دربار میں پیش کرو۔ اجنبی ڈگمگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا۔ وزیر نے اجنبی سے
پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ اجنبی نے جواب دیا میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا
ہوں۔ وزیر نے کہا چھوٹا منہ بڑی بات نہ کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام
سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی
نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا
ہے۔ اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے اور میں آپ پر
یہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے۔ میں اپنا انجام جانتا ہوں
آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے۔ یہ تو آنے والا وقت
بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے۔
جنید
پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا اگر
سمجھانے کے باوجود یہ بضد ہے تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے۔ لٰہذا اس کا چیلنج
قبول کر لیا جائے۔ بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا
اعلان کر دیا گیا اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہلکہ مچ گیا۔ ہر شخص کی یہ
خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے۔ تاریخ جوں جوں قریب آتی گئی لوگوں کا اشتیاق
بڑھتا گیا۔ ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ
نہیں دیکھا تھا۔ دور دراز ملکوں سے بھی سیاح یہ مقابلے دیکھنے کے لئے آنے لگے۔
جنید کے لئے یہ مقابلہ بہت پراسرار تھا اور اس پر ایک انجانی سی ہیبت طاری ہونے
لگی۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شہر بغداد میں امنڈ آیا تھا۔
جنید
پہلوان کی ملک گیر شہرت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان
آج ایک کمزور اور ناتواں انسان سے مقابلے کے لئے میدان میں اتر رہا تھا۔ اکھاڑے کے
اطراف لاکھوں انسانوں کا ہجوم اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا۔ بادشاہ وقت اپنے
سلطنت کے اراکین کے ہمراہ اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔ جنید پہلوان بھی بادشاہ کے
ہمراہ آ گیا تھا۔
سب
لوگوں کی
نگاہیں اس پراسرار شخص پر لگی ہوئی تھیں۔ جس نے جنید جیسے نامور پہلوان کو چیلنج
دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ مجمع کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اجنبی
مقابلے کے لئے آئے گا پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ جنید پہلوان
میدان میں اتر چکا تھا۔ اس کے حامی لمحہ بہ لمحہ نعرے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے
تھے۔
کہ اچانک
وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا اکھاڑے میں پہنچ گیا۔ ہر شخص اس کمزور اور
ناتواں شخص کو دیکھ کر محو حیرت میں پڑ گیا کہ جو شخص جنید کی ایک پھونک سے اڑ
جائے اس سے مقابلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود سارا مجمع دھڑکتے دل کے
ساتھ اس کشتی کو دیکھنے لگا۔ کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ ہاتھوں میں
ہاتھ ڈالے گئے۔ پنجہ آزمائی شروع ہوئی اس سے پہلے کہ جنید کوئی داؤ لگا کر اجنبی
کو زیر کرتے اجنبی نے آہستہ سے جنید سے کہا اے جنید ! ذرا اپنے کان میرے قریب لاؤ۔
میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اجنبی کی باتیں سن کر جنید قریب ہوا اور کہا کیا
کہنا چاہتے ہو۔
اجنبی
بولا اے جنید ! میں کوئی پہلوان نہیں ہوں۔ زمانے کا ستایا ہوا ہوں۔ میں آل رسول
صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ سید گھرانے سے میرا تعلق ہے میرا ایک چھوٹا سا کنبہ کئی
ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا جنگل میں پڑا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے
جان ہو چکے ہیں۔ خاندانی غیرت کسی سے دست سوال نہیں کرنے دیتی۔ سید زادیوں کے جسم
پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں نے اس امید پر تمہیں
کشتی کا چیلنج دیا ہے کہ تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے عقیدت
ہے۔ آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نے میری لاج
رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے
سر پر رکھواؤں گا۔ تمہاری ملک گیر شہرت اور اعزاز کی ایک قربانی خاندان نبوت کے
سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لئے کافی ہوگی۔ تمہاری یہ قربانی کبھی بھی ضائع
نہیں ہونے دی جائے گی۔
اجنبی شخص
کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے۔ اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشک
بار ہو گئیں۔ سیدزادے کی اس پیش کش کو فوراً قبول کرلیا اور اپنی عالمگیر شہرت،
عزت و عظمت آل سول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہ کی۔
فوراً فیصلہ کر لیا کہ اس سے بڑھ کر میری عزت و ناموس کا اور کونسا موقع ہو سکتا
ہے کہ دنیا کی اس محدود عزت کو خاندان نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کردوں۔ اگر
سید گھرانے کی مرجھائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لئے میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے
تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لئے دینے کے لئے تیار ہوں۔ جنید فیصلہ
دے چکا۔ اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی۔ اجنبی شخص سے پنجہ آزمائی کا
ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا۔
کشتی لڑنے
کا انداز جاری تھا۔ پینترے بدلے جا رہے تھے۔ کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا۔ پورا
مجمع جنید کے حق میں نعرے لگاتا رہا جوش و خروش بڑھتا گیا جنید داؤ کے جوہر دکھاتا
تو مجمع نعروں سے گونج اٹھا۔ دونوں باہم گتھم گتھا ہو گئے یکایک لوگوں کی پلکیں
جھپکیں، دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے
آ گیا۔ جنید چاروں شانے چت پڑا تھا اور خاندان نبوت کا شہزادہ سینے پر بیٹھے فتح
کا پرچم بلند کر رہا تھا۔ پورے مجمع پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔ حیرت کا طلسم ٹوٹا
اور پورے مجمعے نے سیدزادے کو گود میں اٹھا لیا۔ میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر
سے گزر رہا تھا۔ ہر طرف انعام و اکرام کی بارش ہونے لگی۔ خاندان نبوت کا یہ شہزادہ
بیش بہا قیمتی انعامات لے کر اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا۔
اس شکست
سے جنید کا وقار لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا۔ ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا
گزر رہا تھا۔ زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا آج انہی لوگوں کے طعنوں
کو سن رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ عشاء کی نماز
سے فارغ ہوکر جنید اپنے بستر پر لیٹا اس کے کانوں میں سیدزادے کے وہ الفاظ بار بار
گونجتے رہے۔ “آج میں وعدہ کرتا ہوں اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں
اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا
جنید
سوچتا کیا واقعی ایسا ہوگا کیا مجھے یہ شرف حاصل ہوگا کہ حضور سرور کونین حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے یہ تاج میں پہنوں ؟ نہیں نہیں میں اس قابل
نہیں، لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ آل رسول کا وعدہ غلط
نہیں ہو سکتا یہ سوچتے سوچتے جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا نیند میں پہنچتے
ہی دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے
تھا اور گنبد خضراء کا سبز گنبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا، جس سے ہر سمت روشنی
بکھرنے لگی، ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی، جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں
خیرہ ہو گئیں، دل کیف سرور میں ڈوب گیا در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں الصلوۃ
والسلام علیک یارسول اللہ۔
جنید سمجھ
گئے یہ تو میرے آقا ہیں جن کا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ فوراً قدموں سے لپٹ گئے حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جنید اٹھو قیامت سےپہلےاپنی قسمت کی سرفرازی
کا نظارہ کرو۔ نبی ذادوں کے ناموس کے لئے شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک قرض
رکھا نہیں جائے گا۔ سر اٹھاؤ تمہارے لئے فتح و کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں۔ آج
سے تمہیں عرفان و تقرب کے سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے۔ تمہیں اولیاء
کرام کی سروری کا اعزاز مبارک ہو۔
ان کلمات
کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے
لگایا اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ
عطا کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنید
نیند سے بیدار ہوئے تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ
گئی تھی ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے۔ بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی
تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ بغداد کا یہ پہلوان آج سید
الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی کے نام سے سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا۔ ساری
کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے۔
ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﺎﺳﻮﺩﺍ
ﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﯾﺘﯿﻢ ﺟﻮﺍﻥ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻟﯿﺌﮯ ﺣﺎﺿﺮﺧﺪﻣﺖ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ؛ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺩﯾﻮﺍﺭﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺑﻨﻮﺍ ﺳﮑﻮﮞ، ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺲ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ،ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﮐﻮ ﺑﻼ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺳُﻨﺎﺋﯽ ﺟﺴﮯﺍُﺱ ﻧﮯ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﺍﻗﻌﺘﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﺍِﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﯾﺎ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮯ ﻟﻮ۔ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ؛ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖﺍِﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺟِﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﻃﻮﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟﺳﻮﺍﺭ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﮯﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢﺗﮭﯽ ﺟﺴﮑﻮ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﺩﻧﮓﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﺳﺐ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﺍﺋﮯﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻣﺎﻝ ﻭ ﻣﺘﺎﻉ ﮐﯽ ﻻﻟﭻ ﺍﻭﺭ ﻃﻤﻊ ﺁﮌﮮ ﺁ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ )ﺍﺑﺎ ﺍﻟﺪﺣﺪﺍﺡ( ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ، ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ، ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺍِﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﺪﻭﮞﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖﻣﻠﮯ ﮔﺎ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮨﺎﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ﺍﺑﺎ ﺍﻟﺪﺣﺪﺍﺡ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻠﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻍﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؛ ﺟﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺪﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺍﯾﺴ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺑﺎﺍﻟﺪﺣﺪﺍﺡ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺳﻮ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻍ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮ، ﺍﯾﺴﺎ ﺑﺎﻍﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﮞﺍﻭﺭ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺗﺎﺟﺮ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺍﻋﻠٰﯽ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮐﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻄﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﮩﺎ، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍُﺱﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﺎﻍ، ﻣﺤﻞ، ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭﻋﺎﻟﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻋﻘﻞ ﻣﺎﻧﺘﯽﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺳﻮ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻍ ﮐﺎﻗﺒﻀﮧ ﺑﮭﯽ ﻣِﻞ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻃﮯ ﭘﺎ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﻝﮐﯿﺎ؛ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ، ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖﭘﮑﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻧﺎﮞ؟ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺑﺎﻟﺪﺣﺪﺍﺡ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﯾﻮﮞ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ؛ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯﺗﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﺎﭘﻮﺭﺍ ﺑﺎﻍ ﮨﯽ ﺩﯾﺪﯾﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺟﻮﺩ ﻭ ﮐﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﯿﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺜﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺟﻨﮑﮯﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﻨﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﺍﺑﺎﻟﺪﺣﺪﺍﺡ، ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮭﻞ ﺳﮯ ﻟﺪﮮﮨﻮﺋﮯ ﺍُﻥ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺴﻘﺪﺭ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﭘﻨﯽﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﺩﮨﺮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﯾﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯﻟﮕﺎ ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ﻭﮦ ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﮨﻮﺗﺎ۔ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍُﭨﮫ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﭼُﮭﭙﺎ ﻧﮧ ﭘﺎ ﺭﮨﮯﺗﮭﮯ۔ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﺳﻤﯿﺖ ﯾﮧﺑﺎﻍ، ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽﺗﮭﯽ، ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﮐﺘﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭽﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ؟ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭽﺎ ﮨﮯ ﺟِﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﮯ۔ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ، ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﺎﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺑﺎﻟﺪﺍﺣﺪﺍﺡ، ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔****ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻗُﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﯾﺎ ﺩُﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼﺳﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﺭﺍﺣﺖ۔۔۔۔ ﮐﻮﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻮﺩﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ؟؟؟ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺳﻤﺖ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﯿﺌﮯ ﮔﺎ ﺿﺮﻭﺭ۔۔۔
Subscribe to:
Posts (Atom)




